ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہو تو ایسی ہو

0
108
Humein-Woh-Apna-Kehte-Hain-Mohabbat-Ho-to-Aisi-Ho
ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہو تو ایسی ہو

ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہو تو ایسی ہو
ہمیں رکھتے ہیں نظروں میں عنایت ہو تو ایسی ہو

وہ پتھر مارنے والوں کو دیتے ہیں دُعا اکثر
لاؤ کوئی مثال ایسی شرافت ہو تو ایسی ہو

اشارہ جب وہ فرمائیں تو پتھر بول اُٹھتے ہیں
نبوت ہو تو ایسی ہو رسالت ہو تو ایسی ہو

وہاں مُجرم کو ملتی ہیں پناہیں بھی جزائیں بھی
مدینے میں جو لگتی ہے عدالت ہو تو ایسی ہو

بنا دیتے ہیں سائل کو سکندر وہ زمانے کا
کریمی ہو تو ایسی ہو سخاوت ہو تو ایسی ہو

مُحمدﷺ کی ولادت پر ہوئے سب کو عطا بیٹے
اسے میلاد کہتے ہیں ولادت ہو تو ایسی ہو

زمین و آسماں والے بھی آتے ہیں غُلامانہ
حقیقت ہے یہی ناصر حکومت ہو تو ایسی ہو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here