سیدنا نوح عَلیہ السَّلام – چھٹا حصہ

0
77
Syedena-Nooh-Alai-Islam - Part 6
دنیا میں بُت پرستی کا آغاز

حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں واقدی کا بیان نقل کیا ہے کہ ”ود“ ایک آدمی کی شکل میں ”سواع“ عورت کی شکل میں ”یغوث“ شیر کی صورت میں ”یعوق“ گھوڑے کی شکل میں اور ”نسر“ ایک پرندے کی صورت میں تھا مگر یہ شاذ ہے۔ مشہور یہی ہے کہ یہ سب انسانی شکل میں تھے اور ان کی عبادت کے آغاز کا سبب جو بیان ہوا ہے اس کا تقاضا بھی یہی ہے، انتہیٰ۔

حافظ ابن حجرؒ کی بات نوح ؑ کے زمانے کے بتوں کے متعلق تو یقینا درست ہے مگر بعد میں جب فرضی بت بنائے گئے تو ممکن ہے ان جانوروں کی شکل پر بنائے گئے ہوں جیسا کہ مشرک قوموں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ کو شرک سے بچانے کے لیے ان دروازوں کو بھی بند کرنے کا حکم دیا جہاں سے شرک داخل ہو سکتا ہے۔ قبر پرستی کے فتنے کی ابتدا قبروں پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے سے ہوتی ہے اور بت پرستی کی ابتداء تصویریں اور مجسمے بنانے سے ہوتی ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں چیزوں سے منع فرمایا اور اونچی قبروں کو دوسری قبروں کے برابر کردینے اور ہر تصویر کو مٹا دینے کا حکم دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here