سیدنا نوح عَلیہ السَّلام – پانچواں حصہ

0
239
Syedena-Nooh-Alai-Islam - Part 5
دنیا میں بُت پرستی کا آغاز

ابن عباسؓ کی اسی مذکورہ بالا روایت میں مذکور ہے کہ یہی بت جو قوم نوح میں تھے بعد میں عرب کے اندر آ گئے۔ ”ود“ دومتہ الجندل میں کلب قبیلے کا بت تھا ”سواع“ ہذیل کا تھا ”یغوث“ غطیف قبیلے کا تھا جو سبا کے قریب جرف میں تھا ”یعقوق“ ہمدان کا اور ”نسر“ حمید کا تھا جو ذولکلاع کی آل تھے۔ (صحیح بخاری تفسیر سورۃ نوح)۔

یہاں ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے طوفان کے بعد جس میں (قوم نوح کے) تمام مشرک غرق کر دیئے گئے وہ بت کیسے باقی رہ گئے اور دوبارہ ان کی پرستش کیسے شروع ہو گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان قدرتی طور پر اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات جاننے کا شوق رکھتا ہے۔ چنانچہ علم تاریخ اسی شوق کا نتیجہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نوح ؑ کے ساتھ باقی بچنے والے اہل ایمان سے بعد والی نسلوں نے ان بزرگوں کی نیکی اور کرامتوں کے واقعات سنے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب جہالت کا غلبہ ہوا تو شیطان نے ان کے ہاتھوں آثار قدیمہ کے طور پر بت نکلوا کر یا ان سے ان اکابر کے فرضی مجسمے بنوا کر دوبارہ ان کی عبادت شروع کروا دی۔ جیسا کہ عیسائیوں نے مسیح اور مریم ؑ کے فرضی مجسمے بنا رکھے ہیں۔بہرحال یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ان پانچوں بتوں کی پرستش ہوتی تھی اور باقاعدہ ان کے آستانے موجود تھے۔ جیسا کہ ابن عباسؓ کی حدیث میں گزرا ہے۔ عرب میں عبد ود اور عبد یغوث کے نام بھی ملتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here