سیدنا شیث عَلیہ السَّلام – چودھواں حصہ

0
94
Syedena-Shees-Alai-Islam - Part 14
انسانی معاشرہ کی تقسیم

علامہ زمخشری بھی خلافت انبیاء ؑ کا تسلسل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جملہ انبیاء ؑ نے نبوت کے ساتھ ساتھ اصلاح فو الارض کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء ؑ روحانی حکمرانی کے ساتھ ساتھ دنیاوی امور کے بھی ذمہ دار اور رہنما تھے جیسے کہ سیدنا سلیمان داؤد ؑ نبی ہونے کے ساتھ ساتھ خلیفتہ اللہ بھی تھے۔

اور دوسری جانب سے وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرستادہ بھی تھے جیسے کہ خود رحمت دو عالم کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ بھی مقام نبوت پر فائز ہوتا یعنی وہ نبی ہوتا تھا۔

سیدنا آدم ؑ خود قوانین ریاست کے اجراء کا کام بھی کرتے تھے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکیس صحیفے دیئے گئے تھے اور انہی پر ابتدائی معاشرہ کی بنیاد قائم ہوئی خلیفتہ اللہ کے عام خطاب کے علاوہ ان کا خاص لقب صفی اللہ بھی تھا۔

بنی آدم کے آبائی معاشرے نے دوسرے دور میں داخلے کے ساتھ اجتماعی ارتقاء کی طرف ایک اور قدم آگے بڑھایا تو سیدنا شیث ؑ فطری حکومت کے تعظیمی سلسلے کی دوسری کڑی بنے جنہوں نے ریاست کے امور کو الہامی صحائف کی تعلیمات کی روشنی میں نیایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔

مگر اس میں ان کی نگاہ دور بین نے اول دن سے ہی آنے والے حالات کے پیش نظر ایک عجیب انداز میں فطری حکومت کی بنیاد رکھی قانون الٰہی کے اصولات و قواعد کی تشریح کی اور ان کو قابل عمل بنانے کے لیے راستہ ہموار کیا اور عوام الناس میں قانون الٰہی کا شعور پیدا کیا تا کہ انسان زندگی اللہ تبارک و تعالیٰ کے وضع کئے ہوئے اصولات کے مطابق بسر کر سکے اور منکرات سے کنارہ کش ہو کر غضب الٰہی سے محفوظ رہے اور رب العالمین کی خوشنودی حاصل کر کے ابدی راحت و سکون حاصل کرے اور دائمی جنت میں داخل ہو کر جہنم سے چھٹکارہ حاصل کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here