سیدنا ادریس عَلیہ السَّلام – چھٹا حصہ

0
45
Syedena-Idrees-Alai-Islam - Part 6
ہجرت

جس وقت سیدنا ادریس ؑ نے رشد و ہدایت کی خاطر کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، قوم کے بد قسمت افراد نے آپ کی تبلیغ پر کان نہ دھرا تو آپ رنجیدہ ہوئے اور اپنے پیروؤں سمیت مصر کی جانب ہجرت فرمائی۔ دریائے نیل کے کنارے آ کر آباد ہوئے۔ پیغمبر وقت سیدنا ادریس ؑ نے یہاں آکر بھی اپنے منصبی فریضہ میں سستی نہ فرمائی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام سر انجام دیتے رہے۔

مشہور ہے کہ اس زمانہ میں کل 72زبانیں بولی جاتی تھیں اور آپ کو تمام پر عبور حاصل تھا۔ آپ ہر ایک سے ان کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے۔تبلیغ دین کے وقت ان کی قومی زبان میں تشریح و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔

قبل از ہجرت آپ کا مسکن بابل شہر تھا جو کہ دجلہ اور فرات کے درمیان واقع ہے جو نہایت سر سبز و شاداب علاقہ ہے۔ بابل عراق کا برباد شدہ شہر تھا لوگ تباہی کے باوجود اس شہر کو چھوڑنا پسند نہ کرتے تھے۔ مگر آپ نے رحمت الٰہی کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا نعم البدل تمہیں ضرور عطا فرمائے گا مگر اس ذات وحدو یکتا کے فرمان پر سر تسلیم خم کرنا تمہارا فرض ہے دیکھو کہ رحمت الٰہی تمہارا کس طرح استقبال کرتی ہے۔ چنانچہ تمام اہل ایمان تیار ہو کر آپ کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب آپ کے رفقاء نے دریائے نیل کی سرزمین کو دیکھا تو نیایت مسرور ہوئے کیونکہ یہ علاقہ سر سبزو شاداب تھا۔ آپ نے حکم دیا کہ اپنی اپنی پسند کی جگہ پر آباد ہو جاؤ اور آپ ان کی آبادی کے ساتھ ہی اپنے فریضہ منصبی کی ادائیگی پر کمر بستہ ہو گئے۔

آپ سے کثیر نصائح اور ہنر کے واقعات اور آداب و اخلاق کے جملے مشہور ہیں جو کہ مختلف زبانوں میں ضرب المثل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here