سیدنا ادریس عَلیہ السَّلام – ساتواں حصہ

0
17
Syedena-Idrees-Alai-Islam - Part 7
ادریس عَلیہ السَّلام کی تعلیمات

آپ نے فرمایا کہ عمل صالح کی قبولیت اور یاد الٰہی کے لیے اخلاص نیت شرط ہے۔ آپ کی تعلیمات کا مختصر خاکہ درج ذیل ہے۔۔۔

۔۔ رب العالمین کی وحدانیت اور یکتائی پر ایمان لانا لازمی امر ہے۔ صرف وہی ایک ذات ہے جو نفع و نقصان کی مالک ہے۔ ساری کائنات کی مخلوقات چھوٹی بڑی صرف اور صرف اسی کی محتاج ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔

۔۔ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہی ذات عالی، لائق عبادت و پرستش ہے وہ ہی ایک ذات ہے جس کے آگے جبیں نیاز جھکائی جا سکتی ہے۔

وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

۔۔ عذاب آخرت سے نجات کے لیے اعمال صالحہ ہی ڈھال بنائے جا سکتے ہیں اور اعمال صالحہ وہ ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور وقت کے پیغمبر کی اتباع کار فرما ہو۔ اگر سرے سے رضا الٰہی مقصود ہی نہ ہو تو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد جیسی اہم عبادات اور اعمال بھی اعمال کہلانے کے مستحق نہیں اور اگر اتباع پیغمبر ہی مقصود ہو تو وہ اعمال بھی اعمال صالحہ نہیں بنتے نہ ہی ذریعہ نجات بن سکتے ہیں۔

۔۔ تمام امور دنیا میں عدل و انصاف اور مال و دولت کی بے وقعتی پیش نظر رہے، دنیاوی زندگی کی فنائیت مد نظر رہے۔ اس لیے کسی نے کہا۔۔۔

بہار دنیا ہے چند روز نہ چل یہاں سر اٹھا اٹھا کر
خدا نے ایسے ہزاروں نقشے مٹا دیئے ہیں بنا بنا کر

۔۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ طریقہ پر عبادت اور یاد الٰہی میں مصروف رہو۔

۔۔ ایام بیض کے روزے رکھنا۔
۔۔ مال کی تطہیر بذریعہ زکوٰۃ کرنا۔
۔۔ نشہ آور اشیاء سے پرہیز کرنا، کتے اور خنزیر سے اجتناب کرنا۔
۔۔ جہاد کرنا، جہاد اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے اُس وقت تک جہاد لسانی تھا جہاد با لسیف بعد میں فرض ہوا۔
۔۔ جھوٹی قسم کھانے سے منع فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء کو قسموں کے لیے تختہ مشق بنانے سے منع کیا جیسا کہ موجودہ زمانے میں عدالتوں میں جھوٹی گواہی دی جاتی ہے اور جھوٹی قسمیں اٹھائی جاتی ہیں اس طرح انسان مجرم کے ظلم و جرم میں برابر کا شریک ہو جاتا ہے۔

۔۔ ذلیل ہستیوں کو ذریعہ معاش مت بنائیں، احکام شریعت کے پابند بادشاہوں کی اطاعت کرو اور اپنے بڑوں کی تابعداری کرو اور ذکر الٰہی سے ہر وقت رطب اللسان رہو، دوسروں کی عیش و عشرت والی زندگیوں پر حسد نہ کرو بلکہ خود محنت کر کے عزت اور وقار حاصل کرو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here