سیدنا آدم عَلیہ السَّلام – پندرھواں حصہ

0
236
Syedena-Adam-Alai-Islam - Part 15
تعمیر قبلتین

بعض علماء کاخیال ہے کہ سیدنا آدم ؑ کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم ہوا تو سیدنا آدم ؑ نے بحکم الٰہی بیت اللہ کی بنیاد رکھی اور چالیس سال بعد بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ کی بنیاد بھی آدم ؑ نے رکھی۔ سیدنا آدم ؑ معمار اور سیدناشیث ؑ مزدور کا کام دیتے رہے یعنی گارا اور پتھر لاکر اپنے والدسیدنا آدم ؑ کو دیتے تھے۔

بیت المقدس کی تعمیر کے بارے بائیبل کی شہادت یہ ہے کہ سیدنا موسیٰ ؑ کے ساڑھے چار سو سال بعد سیدنا سلیمان ؑ نے اس کو تعمیر کیا، چنانچہ سلاطین باب ششم میں ہے۔۔۔
اے بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکل آنے کے بعد ۴۸۰ ویں سال اسرائیل پر سلیمان کی سلطنت کے چوتھے برس زیو کے مہینے میں جو دوسرا مہینہ ہے۔ ایسا ہوا کہ اس نے خداوند کے لیے گھر بنانا شروع کیا اور جو گھر سلیمان نے خداوند کے لیے بنایا اس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی بیس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ تھی۔ آیت: 1۔2

اور سیدنا سلیمان ؑ کے زمانہ ہی میں بیت المقدس قبلہ اہل توحید قرار دیا گیا۔

چنانچہ سلاطین باب ۸ میں ہے ۔۔۔
تاکہ تیری آنکھیں اس گھر کی طرف یعنی اس جگہ کی طرف جس کی بابت تو نے فرمایا کہ میں اپنا نام وہاں رکھوں گا دن اور رات کھلی رہیں تاکہ تو اس دعا کو سنے جو تیرا بندہ اس مقام کی طرف رخ کر کے تجھ سے کرے گا اور تو اپنے بندے اور اپنی قوم اسرائیل کی مناجات کو جب وہ اس جگہ کی طرف رخ کر کے کریں سن لینا بلکہ تو آسمان پرسے جو تیری سکونت گاہ ہے سن لینا اور سن کر معاف کر دینا۔ آیت: 29۔30

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here