سیدنا آدم عَلیہ السَّلام – بائیسواں حصہ

0
146
Syedena-Adam-Alai-Islam - Part 22
واقعہ ہابیل و قابیل

قابیل کو موت کا علم نہ تھا کہ انسان کی زندگی کے ساتھ ساتھ موت بھی مسلسل پیچھا کر رہی ہے۔ ایک دن قابیل نے ایک شخص کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا جسے جانتے نہ تھے اس کے ہاتھ میں سانپ تھا اس بوڑھے شخص نے قریب آ کر قابیل سے کہا کہ کیا سوچ رہے ہو؟ قابیل نے کہا کہ یہ سانپ بھی شیطان کی ایک صورت ہے۔ بڑے میاں نے کہا کہ یہ شیطان بھی ہوتو اسے قابو میں رکھنا جانتا ہوں۔ پھر اچانک بڑے میاں کے ہاتھ سے وہ سانپ چھوٹ کر بھاگنے لگا۔ قابیل نے دیکھا تو اس کا تمسخر اڑانا شروع کر دیااور کہا کہ بڑے میاں تم تو کہتے تھے کہ یہ تمہاری دسترس میں ہے اب تو تم اسے پکڑ بھی نہ سکو گے۔بڑے میاں نے پتھر اُٹھا کر جو سانپ کو مارا تو وہ اس کے سر پر لگا اور مر گیا۔ قابیل نے حیران ہو کر کہا کہ سانپ کو کیا ہو گیا ہے کہ پتھر کی ایک ہی ضرب نے اس کی حالت تبدیل کر دی۔ بڑے میاں نے جواب دیا کہ پتھر سے میں نے اسے مار دیا ہے اب یہ حرکت نہ کر سکے گا۔ اب قابیل نے سوال کیا کہ کیا ہر جاندار کو پتھر سے مارا جا سکتا ہے؟ بڑے میاں (شیطان) نے کہا ہاں جب ایک جاندار مر جاتا ہے تو دوبارہ وہ دنیا میں نہیں آتا۔ قابیل کو اب علم ہوا کہ موت بھی کوئی چیز ہے۔ (نوٹ) یہ بنی اسرائیل روایت ہے

قابیل اب اس تدبیر سے خوش ہوا کہ اب ہابیل کو راستے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اب قابیل نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی سوچی اور ہابیل کو قتل کی دھمکی دی تو ہابیل نے کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے گا تو میں تیرے تقل کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا میں اپنے خالق سے ڈرتا ہوں ، یعنی برائی کا بدلہ برائی سے نہ دوں گا اگرچہ میں تجھ سے طاقتور ہوں مگر لڑنا پسند نہیں کرتا تاکہ میرے قتل کا جرم اور تمہارے دیگر جرائم کا بوجھ تنہا تم پر رہے اور تم اس کی اللہ تعالیٰ کے ہاں سزا پاؤ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here