اسلام میں نبوت کا تصور – چھٹا حصہ

0
329
Islam Mein Nabuwat ka Tasawar - Part 6
ایک غلطی کا ازالہ

عیسائیت اور ہندو مذہب سے متاثرین کا خیال یہ ہے کہ انبیاء ؑ کی بڑائی کا انحصار ان کے کائنات پر متصرف ہونے اور طرح طرح کے معجزات دکھانے پر ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ لوگوں میں حق اور باطل کی تمیز پیدا کر کے ان کی روحانی اور اخلاقی سطحوں کو بلند کرنے میں ہے، کیونکہ معجزات سے مخالف کو مرعوب تو کیا جاسکتا ہے لیکن تشفی نہیں کروائی جا سکتی۔

قبل از اسلام انبیاء ؑ کو غیر از بشر سمجھنے کا عام دستور تھا ان کی بابت انسانوں کے بجائے انسانوں کے روپ میں معبود یا فرشتہ ہونے کا عقیدہ رکھا جاتا تھا اور یہی غلط تصور لوگوں کے ایمان لانے کی راہ میں رکاوٹ تھا جس کا ذکر قرآن کریم نے ان الفاظ میں کیا ہے۔۔۔

ہدایت آجانے کے بعد لوگوں کے اس کے قبول کرنے سے اس کے علاوہ اور کوئی بات مانع نہیں ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بشر کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟ کہہ دو کہ اگر زمین پر فرشتے بسنے والے ہوتے تو البتہ ہم کسی فرشتہ ہی کو ان کے پاس بھیجتے۔
(بنی اسرائیل)

معلوم ہوا کہ رہبری اور قیادت کے لیے اشتراک جنسیت ضروری تھا چنانچہ تمام انبیاء ؑ اپنے تمام جسمانی خصائص یعنی جینے، مرنے، بیمار پڑنے اور صحت یاب ہونے، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، شکل و صورت ، ہاتھ پاؤں وغیرہ کے لحاظ سے خالص بشر ہی تھے۔

ہم نے ان کا جسم ایسا نہ بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ تھے۔
(سورۃ الانبیاء)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here