اسلام میں نبوت کا تصور – پہلا حصہ

0
387
Islam Mein Nabuwat ka Tasawar - Part 1
اسلام میں نبوت کا تصور

قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ
اے محمد ﷺ کہہ دو کہ میں تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہوں ، فر ق صرف یہ ہے کہ مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔

دنیا کو وجود عطا کرنے کے بعد اس کی ہدایت ضروری تھی اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مقبول و برگزیدہ بندے بھیجے جن کو اللہ تعالیٰ تعلیم دیتا ہے اور وہ کائنات انسانی کے معلم و مربی ہوتے ہیں۔

آج کائنات میں نیکی اوربھلائی، تقویٰ و طہارت کی جو کرنیں نظر آتی ہیں۔ یہ انہی انبیاء کرام ؑ کی عطا ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کااحساس، اچھے برے کی تمیز، عدل و انصاف کی قدر حتیٰ کہ بے دین و ملحد اور آزاد خیال لوگوں کی نیکو کاری بھی بلا واسطہ یا بالواسطہ ان ہی حضرات قدسی صفات انبیاء ؑ کی برکات کا پر تو ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا اعتراف نہ کریں یا اسے محسوس نہ کیا جائے۔

تمام جماعت انبیاء ؑ اپنے عہد کے بہترین انسان تھے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے راضی تھا اور وہ اللہ سے راضی تھے۔ اگرچہ انبیاء شریعت میں انسان ہی ہوتے ہیں مگر باطن اور معنویت میں نہایت بلند مقام کے مالک ہوتے ہیں۔

امام غزالی ؒ نے حقیقت نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے ’’معراج القدس‘‘ میں لکھا ہے کہ نبوت انسانیت سے بالا تر ہے جس طرح انسانیت حیوانیت سے بالا تر ہے، نبوت عطیہ الٰہی اور محبت ربانی ہے جو کہ محنت اور کسب سے میسر نہیں آتی۔ فرمان رب العالمین ہے۔۔۔

(اللہ بہتر جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیامبری کا منصب بنائے۔ (سورۃ الانعام
(یہ (نبوت) اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا کرے۔ (سورۃ جمعہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here