اسلام میں نبوت کا تصور – پانچواں حصہ

0
413
Islam Mein Nabuwat ka Tasawar - Part 5
نبی اور مصلح میں فرق

نبی کا مقام اور مفکر سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہوا کرتا ہے۔ تمام انبیاء کرام ؑ پاکیزہ اور معصوم عن الخطاء اور گناہوں سے محفوظ اور معصوم ہوتے ہیں اور ان کی ذمہ داری خطا کاروں کی راہنمائی اور ہدایت ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر وہ خود گناہوں میں ملوث ہوں تو وہ دوسروں کو گناہوں سے بچنے کی تلقین کیسے کر سکتے ہیں؟ جو خود اندھیرے میں ہو وہ دوسروں کو کیسے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا سکتا ہے بایں وجہ رب العزت نے انبیاء ؑ کو معصوم عن الخطاء بنا کر دوسروں کی ہدایت کی خدمت ان کے سپرد فرمائی۔

مصلح کے لیے لازمی نہیں کہ وہ گناہوں سے معصوم ہو بلکہ مصلح اور مفکر گناہوں میں ملوث بھی ہو سکتا ہے اور اس کے دامن پر معصو میت کے دھبے بھی ہوں تو پھر بھی اس کے منصب میں فرق نہیں آتا ، جیسے کہ ایک جید فلاسفر اور حریت کے علمبردار کی حیثیت سے سقراط کی تعظیم ہمیشہ ہوتی رہے اگرچہ اس کی زندگی بہت مکروہ تھی۔ انبیاء کرام اپنے سارے فضائل اور اوصاف حمیدہ کے باوجود انسان ہی تھے نہ وہ خدا تھے اور نہ اللہ کے بیٹے اور نہ اوتار تھے دراصل انبیاء میں الوہیت کا ادنیٰ سا شائبہ بھی تسلیم کر لینے سے توحید و نبوت کی حیثیت مشتبہ ہی نہیں بلکہ ربالعزت کی ربوبیت اور انبیاء کی بعثت کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے اور پھر ان کی زندگیاں ہمارے لیے کچھ مفید نہیں رہتیں اس لیے کہ حلول اور اوتار کا عقیدہ یہود و ہنود کا ہے۔ نیز اس لیے کہ اوتار اور حلول اوراللہ کے بیٹے ماننے سے مقصد نبوت اور الوہیت ختم ہو جاتا ہے۔ نیز ان کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہونے کے قابل نہیں رہتیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here