اسلام میں نبوت کا تصور – ساتواں حصہ

0
141
Islam Mein Nabuwat ka Tasawar - Part 7
ایک غلطی کا ازالہ
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے صاف صاف اور بالکل واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرایا کہ بیشک ہم بشر ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

(قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھمْ اِنْ نَحْنُ اِ لَّا بَشَرمِثْلُکُمْ۔ (ابراھیم
ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ بے شک ہم بشر ہی ہیں تم ہی جیسے۔

اللہ تعالیٰ نے سرور انبیاءﷺ کو خصوصی طور پر حکم دیا کہ اپنی بشریت کا اعلان کرو۔۔۔
آپ کہہ دیجئے کہ سبحان اللہ میں بجز اس کے اور ہوں کیا کہ بشر ہوں، رسول ہوں۔

دوسری اور تیسری بار بھی ایسا ہی تصریحی اعلان بشریت کا حکم ملا۔۔۔
آپ کہہ دیجئے کہ میں تم ہی جیسا ایک بشر ہوں ( بس فرق یہ ہے کہ) مجھ پر وحی آتی ہے۔

پیغمبروں کو الوہیت یا نیم معبودیت کا مرتبہ دینے کی بڑی حد تک ذمہ داری مقدس ہستیوں کی اعتدال سے بڑھی ہوئی تقدس و تکریم پر ہے، معتقدو ں کی غلو آمیز روش اور خوش عقیدگی اکثر اوقات دینی رہنماؤں کو معبود و مسجود کے مقام تک پہنچا دیتی ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس خطرہ کا لحاظ رکھتے ہوئے کبھی کبھی اپنی بے جا تعظیم وتکریم کی اجازت نہ دی بلکہ واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ مجھے حد سے بڑھانا جیسے کہ نصاریٰ نے مسیح ؑ کو حدسے بڑھایا دیا (یعنی اللہ کا بیٹا بنا دیا)۔

نصاریٰ نے عیسیٰ ؑ کی شان میں بہت زیادہ غلو سے کام لیا، آپ کو عبد کی بجائے معبود کے مقام پر لاکھڑا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ ؑ کی عبدت کو قران مجید میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے بلکہ دیگر انبیاء کی عبدیت کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔۔۔
مسیح کو اس سے (ذرا بھی) عار نہیں کہ وہ اللہ کے عبد ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here