اسلام میں نبوت کا تصور – دوسرا حصہ

0
172
Islam Mein Nabuwat ka Tasawar - Part 2
نبوت کا معنی و مفہوم

نبوت کے ماخذ کے بارہ میں دو قول ہیں بعض کا تو یہ خیال ہے کہ یہ ’’ نَبَا یَنبُو نَبُوَّ ۃََ ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے دوسروں سے دور اور آگے نکل جانا۔ عرب کہتے ہیں مضروب سے تلوار اُچٹ گئی۔ بعض علماء کا یہ قول ہے کہ یہ اَنبا، یُنبی، اِنباءََ سے ماخوذ ہے اس کا معنی کسی واقعہ کی خبر دینا۔ اس مادے کی رعایت کرتے ہوئے یہ لفظ ہمزہ کے ساتھ نُبوءَ ۃُ لکھا جاتا ہے۔ امام نافع ؒ سے ورش ؒ نے اس لفظ کی قراء ت اسی ہمزہ کے ساتھ نقل کی ہے۔ جبکہ امام عاصم سے حضرت حفص نے واؤ مشدد کے ساتھ نقل کی ہے۔ البتہ ہمزہ کو واؤ سے بدل کر اور واؤ میں ادغام کر کے پڑھنے کا جو قاعدہ نحویوں کے ہیاں ’’ اعلال ‘‘ کے نام سے معروف ہے اس کی رُو سے ہمزہ کی قراء ت کی بجائے واؤ کی قرات بھی درست ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے شریعت کی اصطلاح میں نبوت کی تعریف یہ ہے کہ۔۔۔

اللہ تعالیٰ عام انسانوں میں سے بلند مقام اور عالی مرتبہ انسانوں کو اس منصب کے لیے پسند کرتا ہے اور منتخب فرماتا ہے اور انسانی ہدایت کے لیے اس پر وحی کا نزول فرماتا ہے۔ انبیاء نبی کی جمع ہے۔ نافع کی قراء ت بروایت ورش ؒ پورے قرآن مجید یا اس کے اکثر مقامات میں یہ لفظ ہمزہ ہی کیساتھ وارد ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here