اسلام میں نبوت کا تصور – آٹھواں حصہ

0
158
Islam Mein Nabuwat ka Tasawar - Part 8
ایک غلطی کا ازالہ

مزید تاکید کے لیے اس و صف عبدیت کو خود سیدنا عیسیٰ ؑ کی زبان سے دہرایا گیا، آپ نے بچپن سے ہی اپنی زبان سے اعلان کیا۔۔۔
میں تو اللہ کا عبد (بندہ) ہوں اسی نے مجھ کو کتاب دی ہے اور اسی نے مجھے نبی بنایا ہے۔

چونکہ یہود و نصاریٰ انبیاء کے سلسلہ میں غلو کا شکار ہو گئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سیدالانبیاء کی عبدیت کو بڑ ی صراحت اور تکرار کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کیا ہے۔ سفر معراج کے تذکرہ میں آپ ﷺ کا ذکر وصف عبدیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔۔۔
پاک ہے وہ ذات جو لے گیا راتوں رات اپنے عبد (بندے) کو مسجد حرام (محترم) سے مسجد اقصیٰ (دور والی) تک۔

آپﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے تو اللہ تعالیٰ نے اعجاز قرآنی کے ذکر میں آپ ﷺ کا لقب ’’عبد‘‘ بیان کیا ہے۔۔۔
(اے منکرو) اگر تمہیں شک ہے اس کتاب کے بارے میں جو ہم نے اپنے عبد (بندے) پر اُتاری ہے تو پھر تم بھی ایک سورت اس جیسی لے آؤ۔

یہ بات بڑے افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ آج امت مسلمہ بھی یہود و نصاریٰ کی طرح غلو کا شکار ہو گئی ہے اور امام الانبیاء سرور کائنات ﷺ کو بشریت سے ماوراء ہستی سمجھ لیا گیا ہے اور مقام عبدیت سے بلند کر کے مقام الوہیت کے قریب قریب پہنچا دیا گیا ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے بڑی سختی سے غلو سے منع فرمایا ۔

خود اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو غلو سے منع فرمایا۔۔۔
اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو۔

اس سلسلہ میں صاحب معالم القرآن فرماتے ہیں۔۔۔
قرآن نے نبوت کا تصور تمام مذاہب سے بالکل جداگانہ پیش کیا ہے، قرآن کے بیان کے مطابق نبی نہ اللہ سبحانہ کا اوتار ہے کہ اس میں اللہ سبحانہ حلول کر جائے اور نہ خود اللہ ہوتا ہے کہ صورت انسانی میں جلوہ گر ہو جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here